اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے ایک محقق اور تاریخ دان ’’ڈاکٹر رینڈی شارٹ‘‘نے پریس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹریو میں امریکہ کو ایک حقیقی نسل پرست ملک قرار دیتے ہوئےاس کو انسانی حقوق کی ایک ناکام ریاست سے تعبیر کیاہے ۔
انہوں نے کہاکہ ایک امریکی سفید فام پولیس آفیسر کی طرف سے ایک افریقی نژاد امریکی سیاہ فام مائیکل برادن کو موت کے گھاٹ اُتارنا اس بات کی غماز ہے کہ امریکہ حقیقت میں نسل پرستی کا ایک گڑھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاہ فام امریکیوں کو صرف پولیس کی طرف سے نہیں بلکہ امریکی اشرافیہ اور امریکہ میں رہ رہے صیہونیوں کی طرف سے بھی نسلی امتیاز کا شکار بنایا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ یہ ایسے افراد ہیں جو بالکل پاگل اور قابو سے باہر ہوگئے ہیں اور یہ سینکڑوں سال سے افریقی نژاد امریکیوں کا استحصال کرتے آرہے ہیں ۔
موصوف محقق نے کہاکہ مائیکل برادن کی ہلاکت کے بعدکم سے کم ہزار افراد کو امریکی پولیس نے یا تو حراست میں لے رکھا ہے یا براہ راست ہلاک کیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ امریکیوں کی ایک بڑی تعداد نسل پرستی کو امریکہ کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ قراردیتے ہوئے حکومت سے افریقی نژاد سیاہ فام امریکیوں کو انکے جائزحقوق دینے کی مانگ کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ حالیہ برسوں میں پولیس اور کچھ سفید فام امریکیوں کی طرف سے اقلیتی فرقوں خاصکر افریقی نژاد امریکیوں کے ساتھ ناروا سلوک برتنا اور ان پر ظلم کرنا ملک بھر میں ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔
ڈاکٹر رینڈی شارٹ نے مزید کہاکہ امریکی عوام کے تحفظ کیلئے ملک میں حکومت کی تبدیلی، آئین میں ترمیم اور نیا طریقہ کار اپنانے کی اہم ضرورت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲